7 دسمبر 2013 - 20:30
مولانا شمس معاویہ کا جنازہ، دفعہ 144کی دھجیاں اڑا دی گئیں

لاہور میں دفعہ 144کے نفاد کے باعث جلوس، ریلی یا جلسہ کرنے، اسلحہ کی نمائش کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے لیکن جنازے کے اجتماع میں درجنوں مسلح کارکنوں سرعام اسلحہ کی نمائش کرتے رہے اور اس موقع پر پولیس اہلکار اور افسر تماشائی بنے دیکھتے رہے۔

ابنا: لاہور میں مال روڈ پر احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلی یا جلوس نکالنے اور اسلحہ کی نمائش کرنے پر مکمل پابندی ہے اور شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکنوں نے جنازے کی آڑ میں دفعہ 144 کی دھجیاں اڑا دیں۔ کارکنوں نے جنازہ کے لئے مسجد شہداء کا اعلان کیا لیکن مال روڈ پر ریگل چوک سے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالی اور حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر درجنوں کارکنوں نے اسلحہ کی نمائش بھی کی۔ اس موقع پر پولیس کی بھی نفری بھی موجود تھی لیکن وہ محض تماشائی بنی رہی اور کسی بھی کارکن کو گرفتار کرنے کی جسارت نہیں کی۔ شہری حلقوں نے اسلحہ کی نمائش اور مال روڈ پر دھرنا دینے اور ریلی نکالنے پر تشویشن کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ کے رہنمائوں اور اسلحہ کی نمائش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔دوسری جانب مال روڈ، ہال روڈ، انار کلی، ٹمپل روڈ اور ملحقہ مارکیٹوں کے تاجروں نے بھی پولیس کی جانب سے زبردستی دکانیں بند کرانے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ محض ایک ریلی کی وجہ سے ہمارا کروڑوں کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ جب مال روڈ پر احتجاجی جلوس نکالنے اور دھرنے دینے پابندی ہے تو پولیس نے اس کی پاسداری کیوں نہیں کرائی، تاجروں اس حکومت کی جانب سے ایک کالعدم جماعت کو اس طرح کھلی چھٹی دے کر اپنی ان سے وابستگی ثابت کر دی ہے۔ دوسری جانب پولیس اہلکار بھی اپنی اس ڈیوٹی پر نالاں نظر آئے۔ ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ ہمیں صبح سے ہی یہاں تعینات کر دیا گیا ہے اور نجانے ان کا دھرنا کب تک چلنا ہے، اس کا کہنا تھا کہ ہمیں اوپر سے آرڈر ہیں کہ ان کو کھل کر احتجاج کرنے دیا جائے۔ حکومت کی جانب سے دی جانے والی ڈھیل کے باوجود شرکاء پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔......./169